نئی دہلی، 25 دسمبر (ایس او نیوز؍ائی این ایس انڈیا) وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کے روز کسانوں اور حکومت کے درمیان جاری تینوں زرعی قوانین کے خلاف احتجاج کی آڑ میں سیاسی مفادات حاصل کرنے والے لوگوں کو ذمہ دار قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اب کم سے کم سپورٹ پرائس (ایم ایس پی) پر تشویش کی جگہ تشدد سے متعلقہ ملزمان کی رہائی اور ہائی ویز کو ٹول فری بنانے جیسے غیرمتعلق امور پر حاوی ہونے لگے ہیں۔ تینوں زرعی قوانین کا مضبوطی سے دفاع کرتے ہوئے مودی نے کہا کہ حکومت ان لوگوں سے بھی بات چیت کرنے کے لئے تیار ہے جو مختلف نظریہ کی وجہ سے حکومت کے خلاف ہیں لیکن یہ مباحثہ عقلی، حقائق اور امور پر مبنی ہونا چاہئے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ ملک کے کسانوں کی ایک بڑی تعداد نے ان تینوں زرعی قوانین کا خیرمقدم کیا ہے اور وہ ان سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ دنوں میں بی جے پی نے آسام، راجستھان اور جموں و کشمیر سمیت مختلف ریاستوں میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں کامیابی حاصل کی اور ان انتخابات میں حصہ لینے والے ووٹر بنیادی طور پر کسان تھے۔
سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی کی سالگرہ کے موقع پر ’پردھان منتری کسان سمان نیدھی‘ا سکیم کی نئی قسط میں نو کروڑ سے زائد کسانوں کے لئے باضابطہ طور پر 18 ہزار کروڑ جاری کرنے کے بعد وزیر اعظم مودی نے ویڈیو کانفرنس کے ذریعے کسانوں سے خطاب کیا کر رہے تھے ۔انہوں نے کہا کہ جن سیاسی جماعتوں کو ملک کی عوام نے مسترد کیا ہے، وہ اپنی سیاسی روٹیاں سیکنے کے لئے کسانوں کو گمراہ کررہی ہیں۔ کسانوں کے احتجاج کا ذکر کرتے ہوئے مودی نے کہا کہ جب تحریک شروع ہوئی تو انہیں ایم ایس پی سمیت نئے قوانین کے بارے میں کچھ حقیقی خدشات لاحق تھے لیکن بعد میں سیاسی لوگ وہاں آئے اور کسانوں کے کاندھوں پر بندوق اٹھانا شروع کردیا اور غیرمتعلق امور کو اٹھانا شروع کیا۔ انہوں نے کہاکہ آپ نے دیکھا ہوگا کہ جب تحریک شروع ہوئی تھی تو ایم ایس پی کے ذریعہ ان کے مطالبے کی ضمانت دی گئی تھی۔ ان کے مسائل جائز تھے کیونکہ وہ کسان تھے لیکن اب سیاسی نظریہ کے لوگ اس پر حاوی ہوگئے ہیں۔